قومِ نوح کے زوال کے بعد جب قومِ عاد کو دنیا میں عروج حاصل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی جسمانی قوت، معاشی فارغ البالی اور اقتدار کی نعمتوں سے نوازا۔ ان مادی عطیات کا فطری تقاضا یہ تھا کہ ان کے اندر اعترافِ حقیقت اور تواضع (humility) کا جذبہ بیدار ہوتا، مگر شکر گزاری کے بجائے انہوں نے فخر و تفاخر کی روش اختیار کی۔ اس ذہنی انحراف کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے وسائل اور صلاحیتوں کا بنیادی مصرف محض اپنے معیارِ زندگی کو اونچا کرنا اور زمین پر اپنی برتری کے لاحاصل سنگی نشانات قائم کرنا بن کر رہ گیا۔
انسان جب مادی خوشحالی پاتا ہے تو وہ باغات، چشموں اور قدرتی مناظر کے درمیان پرتعیش محلات اور تفریحی مراکز تعمیر کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ قومِ عاد کا بھی یہی المیہ تھا کہ انہوں نے اونچے مقامات پر یادگار عمارتیں اور تفریح گاہیں بنائیں، گویا انہیں اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ مادی فراوانی کے نتیجے میں انسان کے اندر اپنی ذات کے حوالے سے ایک مبالغہ آمیز تخمینہ (overestimation) پیدا ہوتا ہے، جو اسے اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اس کی خوشحالی اور مضبوط قلعہ بندیاں اسے ہر قسم کے زوال اور احتساب سے محفوظ رکھیں گی۔
یہ متکبرانہ نفسیات رفتہ رفتہ انسان کو ظلم اور سرکشی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جب خوشحالی انسان کو خدا کی پکڑ سے بے خوف کر دے تو وہ بندوں کے معاملے میں بھی جبار (tyrant) بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب کسی سے اختلاف یا شکایت کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی انا (ego) انہیں کسی اخلاقی حد پر رکنے نہیں دیتی، بلکہ وہ اپنی پوری طاقت سے مخالف کو کچل ڈالنے اور اس پر ہر بے انصافی روا رکھنے کو جائز سمجھ لیتے ہیں۔ جو شخص خود کو آخرت کی معروضی حقیقت (objective reality) اور خدائی بازپرس سے بالا تر فرض کر لے، اس کے ظلم سے دوسرے انسان کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔
دنیا میں حاصل ہونے والی برتری انسان کے گرد ایک جھوٹے اعتماد (false confidence) کا حصار باندھ دیتی ہے، جو اس کے لیے خارجی سچائی اور خیر خواہی کی بات سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متکبر انسان اپنے ناصح کی مخلصانہ پکار کو اہمیت نہیں دیتا، خواہ وہ خدا کا برحق اور معتبر رسول ہی کیوں نہ ہو۔ اس مقام پر قرآن کا سب سے بنیادی مقصد فکری اصلاح اور تذکیر (thought correction) کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ قرآن انسان کی اس بڑھی ہوئی سوچ پر ضرب لگاتا ہے اور اسے اس کی اصل حیثیت اور فطری حدود (natural limits) کی طرف واپس لاتا ہے تاکہ اس کا فکری توازن بحال ہو سکے۔
حضرت ہود علیہ السلام نے قومِ عاد کو اسی فکری اعتدال اور بندگی کی طرف بلایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مادی ترقیاں، وسائل، باغات اور اولادیں درحقیقت خدا کا عطیہ ہیں، جن پر سرکشی کے بجائے خشیتِ الٰہی اختیار کرنی چاہیے۔ پیغمبرانہ دعوت کا مقصد انسان کو اس کے خود ساختہ تخمینوں سے نکال کر انجامِ کار اور قیامت کے عذاب سے خبردار کرنا (divine warning) ہے۔ جو لوگ خوشحالی کے نشے میں فکری توازن کھو بیٹھتے ہیں اور بروقت تنبیہ سے سبق نہیں لیتے، وہ بالآخر اسی وقت حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں جب خدا کا اٹل عذاب انہیں بے بس کر کے ماننے پر مجبور کر دیتا ہے۔
(a) The ‘Ad was a community which rose to prominence after Noah’s people were destroyed (see 7:69). Almighty God blessed this community with everything— health, prosperity, power, etc. Had they been grateful for these blessings, they would have developed a feeling of humility. But, instead, they became proud, thinking that the best use of their resources was to upgrade their standard of living and to elevate their name. They considered the erecting of stone icons their greatest task. If such people have any difference with or complaint against anyone, their pride makes them go beyond all limits. They consider any injustice perpetrated against one who is the object of their disapproval to be legitimate and proper. They simply want to crush him with all their might. Prosperity in the world makes them fearless of retribution in the Hereafter. Those who consider themselves safe from the ultimate reckoning can go to any extent to harm others. People who enjoy prosperity and dominance develop a high degree of false self- confidence. This false confidence prevents them from understanding the Truth when presented to them by people who do not belong to their group. They do not give importance to the advice of the admonisher, who may be most trustworthy, and even though he be God’s messenger. Such people accept the Truth only when they confront God’s punishment, but such acceptance will be of no avail.